لکھنؤ، 30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بہوجن سماج پارٹی نے آج اپنی سربراہ مایاوتی پر ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام لگا کر پارٹی چھوڑنے والے آر کے چودھری کو مفادپرست قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ان کے جانے سے بی ایس پی کا کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے۔بی ایس پی کے ریاستی صدر رام اچل راج بھر نے چودھری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آج یہاں جاری بیان میں کہاکہ بی ایس پی میں مفادپرست لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔چودھری جیسے لوگوں کے چلے جانے سے پارٹی پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔راج بھر نے کہا کہ چودھری ایک بار پہلے2001 میں بھی پارٹی سے نکل گئے تھے اور 2013میں اپنی غلطی کے لیے معافی مانگ کر بی ایس پی میں واپس آ گئے تھے۔یہ دعوی کرتے ہوئے کہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے پارٹی کے دیگر لیڈروں کی سفارش پر ہی انہیں دوبارہ پارٹی میں واپس لے لیا تھا، راج بھر نے کہاکہ پارٹی نے دوبارہ واپس آنے پر چودھری کو موہن لال گنج(محفوظ)سیٹ سے لوک سبھا کا ٹکٹ دیاتھا، مگر وہ الیکشن ہار گئے۔اس بار بی ایس پی کی ہوا دیکھتے ہوئے وہ پھر 2017میں موہن لال گنج سے اسمبلی انتخابات لڑنا چاہتے تھے۔انہیں سمجھایا گیا کہ ان کا وعدہ تھا کہ وہ لوک سبھا کاالیکشن ہی لڑیں گے اور باقی وقت وہ پارٹی تنظیم میں کام کریں گے۔راج بھر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ دئیے جانے سے انکار کئے جانے پر انہوں نے ذاتی مفاد میں بی ایس پی سربراہ پر بے بنیاد الزام لگا کر پارٹی چھوڑ دیا۔